4 نومبر 2011 - 20:30

يمني شہريوں نے ايک بار پھر دارالحکومت صنعا اور جنوبي شہر تعز ميں مظاہرے کئے ہيں اور ملک سے عبداللہ صالح کي آمرانہ حکومت کے فوري خاتمے کا مطالبہ کيا ہے۔

ابنا: موصولہ خـبروں کے مطابق حکومت کي جانب سے احتجاج اور مظاہروں کو طاقت کے بل پر کچلے جانے کے باوجود ہزاروں کي تعداد ميں يمني شہري ملک بھر کي سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے عبداللہ صالح کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرين اس عزم کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ آمريت کے مکمل خاتمے تک مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھيں گے۔ يہ مظاہرے ڈکٹيٹر کے حامي فوجيوں کے حملے ميں انيس مظاہرين کے جاں بحق ہونے کے بعد ہوئے ہيں۔ مظاہرين نے حاليہ پانچ روز کے دوران جاں بحق ہونے والے مظاہرين کي تدفين ميں شرکت کي اور انکا نعرہ تھا کہ پوري قوم عبداللہ صالح کي برطرفي اور انصاف کي طلبگار ہے۔ عيني شاہدين نے بتايا ہے کہ صنعا ميں مظاہرين اور عبداللہ صالح کے حامي فوجيوں کے درميان زبردست لڑائي ہوئي ہے۔تاحال ان جھڑپوں ميں ہونے والے ممکنہ جاني نقصانات کے بارے ميں کوئي اطلاع موصول نہيں ہوئي ہے۔............./169